Latest News

کیا آپ میں ویڈیوز بنانے کی صلاحیت ہے تو وائٹل پاکستان آپکو فراہم کرتا ہے ۔ بوم پیز پروگرام پر ویڈیو بنائیں اور فیس بک کے اس پیج پر پبلش کریں اور 30 یورو جیتیں۔30 جون تک جس ویڈیو کے سب سے زیادہ لائیکس ہوگے وہ ونر قرار دیا جائے گا۔ تو ہے کوئی باحوصلہ؟۔ وائٹل پاکستان فیس بک آفیشل پیج.

News1

نوٹس: 24جنوری: بوم پیز اراکین کے لیئے خوشخبری:پے منٹ پلان چیک کریں، ہمارا دعواہ ہے کہ پورے ایشیا میں کوئی بھی کمپنی اتنا اعلیٰ ریٹ نہیں دے رہی، ایڈمن

Frenchise News

وائٹل پاکستان نے 18 فروری 2012 کو اپنی کامیابی کے دوسال مکمل کرلیے ہیں۔ الحمدللہ۔ اگر آپ اپنے علاقے سے فرنچائز کے طور پر کام کرنا چاہتے ہیں تو آج ہی جائین کریں۔

Video Alert


الرٹ:ویڈیو ٹٹوریل سے #3 اور #4 ویڈیو دیکھ کر اپنے ڈالرز پے آوٹ کرتے رہیں۔ماہِ اپریل کی سیلریز تقسیم کردی گئی ہیں۔ کراچی سے فیصل رضا کی پہلے نمبر پر سیلری 8775 روپے بنی

نئیا سافٹ وئیر

مئی3: ماہ اپریل کی تمام سیلریز 10 مئی تک تقسیم کردی جائیں گی۔ اور اس مرتبہ کم از کم 1000 کی لمٹ بھی ختم کردی گئی ہے۔ ایڈمن

Vital Pakistan Online Jobs Family Network

For Adults


1923 کا واقعہ ہے کہ دنیا کے 8 دولت مندترین افراد ملے، ان کی دولت کا اندازہ یہاں سے لگایاجاسکتا ہے کہ ان سب کی مشترکہ دولت امریکن گورنمنٹ کی مکمل دولت سے زیادہ تھی۔
ان لوگوں کو علم تھا کہ کہ بہترین زندگی کیسے بنائی جاسکتی ہے اور دولت کس ہنر سے جمع کی جاتی ہے۔
یہ پڑھنا کہ یہ دنیا کے 8 دولت مند ترین افراد 25 سال بعد کہاں پہنچے بہت اہمیت کا حامل ہوگا۔
25 سال بعد۔۔۔
1۔پریزیڈنٹ آف لارجسٹ سٹیل کمپنی، چارلس شواب، بینک دہندہ کے طور پر مرا۔
2۔پریزیڈینٹ آف لارجسٹ گیس کمپنی، ہوورڈ، پاگل ہوگیا۔
3۔اجناس کا بہت بڑا تاجر، آرتھر کٹن، دیوالیہ ہوکر مرا۔
4۔پریزیڈنٹ آف نیویارک سٹاک ایکسچینج، رچرڈ وٹنے، کو قید ہوگئی۔
5۔صدر کی کابینہ کے ایک رکن، البرٹ فال، کو جیل سے رہائی ملی۔
6۔وال سٹریٹ پر سب سے بڑا ریچھ بنانے والے، جیسی لیومور نے خودکشی کرلی۔
7۔دنیا کی سب سے بڑی مناپلی بنانے والے لوار کروگر نے خودکشی کرلی۔
8۔صدر بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹ نے خودکشی کرلی۔
چنانچہ یہ سب کیا تھا؟
ان سب نے غلطی کہاں کی؟
انھوں نے یقیناً بہت سا پیسہ کمایا تھا اور وہ واقعی بہت امیر بھی تھے مگر۔۔۔۔۔ان میں کوئی تو کمی ہوئی ہوگی جس کی بنا پر یہ انتہائی اقدام کی زد میں آئے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ جیسے جیسے انھیں یہ پتہ چلتا گیا کہ اپنی زندگی کو کیسے پر آسائیش کرتے جائیں وہاں وہ یہ بھولتے بھی گئے کہ زندگی کیسے بنانی ہے۔ وہ زندگی بنانا بھول گئے۔ اور انھوں نے محض دولت ہی کمائی۔
دولت آسائیشیں بھی دیتی ہے اور حیثییت بھی سچ ہے۔ یہ بھوکے کو کھانا بھی دیتی ہے۔ مریض کو دوا بھی۔ضرورتمند کو کپڑے بھی دیتی ہے۔ بے گھر کو گھر بھی دیتی ہے۔ ابھی تک یہی ثابت ہوتا ہے کہ پیسہ دولت محض ایک ذریعہ ہے ان ضرورتوں تک پہنچنے کا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام دو طرح کی تعلیم رائج کرے۔
ایک حصہ ہمیں یہ سکھائے کہ زندگی کی ضرورتوں کو کیسے حاصل کیا جائے اور
دوسرا حصہ یہ بتائے کہ زندگی کی اقدار کیا ہیں اور اپنی زندگی کو پروقار اور قیمتی کیسے بنائیں۔ (محض دولت کما لینے سے زندگی قیمتی نہیں ہوجاتی، زندگی قیمتی بنتی ہے سیکھنے اور سکھانے کے عمل اور مدد سے)۔جو ہمیں خوشی کا دھوکہ دینے والے سراب اور پھندے سے آزاد کرے۔ بہت سے لوگ عمریں گزار دیتے ہیں اور صحت، خاندان، معاشرتی ضماداریوں اور بہت سی جھوٹی اناوں کے خول اور شکنجے میں دم گھٹا کر جینے کے عادی ہوجاتے ہیں۔ اور کبھی بھی آزادی کی سانس نہیں لے پاتے۔
جب ہم گھر سے نکلتے ہیں تو بچے سو رہے ہوتے ہیں اور جب ہم گھر لوٹتے ہیں تب بھی بچوں کو سوتا ہی پاتے ہیں۔ بیس سال گزر جاتے ہیں، ہم اپنے پیچھے دیکھتے ہیں۔ اور ہم بہت سے خواب، اپنی صحت اور اپنے مقاصد دولت کی خاطر کھو چکے ہوتے ہیں۔ اور یہ سب خواب محض ایک خیال کی حد سے بھی نیچے آ چکے ہوتے ہیں۔ اور ہم بہت کچھ بھول بھی چکے ہوتے ہیں۔
بنا پانی کے، ایک بحری جہاز حرکت نہیں کرسکتا، جہاز کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اگر پانی جہاز میں داخل ہوجائے تو؟؟؟
جہاز کی بقا کو خطرہ لاحق ہوجائے گا اور بلاخر جہاز ڈوب جائے گا۔ اسی طرح، دیکھا جائے تو ہم جس دور کے باسی ہیں وہاں دولت کی اہمیت اپنی جگہ مگر کوشش کریں کہ یہ دولت آپکے دل میں نہ داخل ہوجائے، کیونکہ اس طرح وہ جو کسی وقت میں آپ جینا چاہ رہے تھے اور پیسہ جینے کا تقاضہ اور وسیلہ تھا ایک بھاری زنجیر کی صورت آپ کے گرد لپٹ جائے گی ، سب ختم ہوجائے گا، مقصدِ حیات بدل جائے گا۔ اور وجود ایک بڑی تباہی میں آجائے گا، جو آپ کو کبھی نظر نہیں آئے گی۔
تو کچھ دیر بیٹھیں اور سوچیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پانی کہیں میرے جہاز میں بھی  تو  داخل نہیں ہوگیا؟
(جناب زاہد کلیم کی فاروڈننگ ای میل کا ترجمہ) 12 مئی 2012







کل بن دیکھے سودا تھا اس لیئے سستا تھا۔ قصہ غور سے پڑھئے
ہارون الرشید کے زمانے میں بہلول نامی ایک بزرگ گزرے ہیں۔ وہ مجذوب اور صاحب ِ حال تھے ۔ ہارون الرشید ان کا بہت احترام کرتے تھے۔ ہارون الرشیدکی بیوی زبیدہ خاتون بھی ایک نیک اور پارسا عورت تھیں۔ انھوں نے اپنے محل میں ایک ہزار ایسی خادمائیں رکھی ہوئی تھیں جو قرآن کی حافظہ اور قاریہ تھیں۔ ان سب ڈیوٹیاں مختلف شفٹوں میں لگی ہوئی تھیں۔ چنانچہ ان کے محل سے چوبیس گھنٹے ان بچیوں کے قرآن پڑھنے کی آواز آرہی ہوتی تھی۔ ان کا محل قرآن کا گلشن محسوس ہوتا تھا۔
ایک دن ہارون الرشیداپنی بیوی کے ساتھ دریا کے کنارے ٹہل رہے تھے کہ ایک جگہ بہلول دانا کو بیٹھے ہوئے دیکھا۔ انھوں نے کہا، اسلام وعلیکم، بہلول دانا نے جواب میں کہا، وعلیکم سلام۔ ہارون الرشید نے کہا ، بہلول آپ کیا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریب کے گھر بنا رہا ہوں۔ پوچھا، کس کے لیئے بنارہے ہیں؟ جواب دیا کہ جو آدمی اس کو خریدے گا میں اس کے لیئے دعا کروں گا کہ اللہ رب العزت اس کے بدلے اس کو جنت میں گھر عطا فرمادے۔ بادشاہ نے کہا، بہلول اس گھر کی قیمت کیا ہے؟ انہوں نے کہاکہ ایک دینار۔ ہارون الرشید نے سمجھا کہ یہ دیوانے کی بڑ ہے لہذا وہ آگے چلے گئے۔
ان کے پیچھے زبیدہ خاتون آئیں۔ انہوں نے بہلول کو سلام کیا اور پھر پوچھا بہلول کیا کررہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں ریت کے گھر بنا رہاہوں۔ پوچھا کس کے لیئے گھر بنا رہے ہیں؟
بہلول نے کہا کہ جو آدمی اس گھر کو خریدے گا میں اس کے لیئے دعا کروں گا کہ یا اللہ اس کے بدلے اس کو جنت میں گھر عطا فرمادے۔ انہوں نے پوچھا، بہلول اس گھر کی کیا قیمت ہے؟ بہلول نے کہا ایک دینار۔ زبیدہ خاتون نے ایک دینار نکال کر ان کو دے دیا اور کہا کہ میرے لیئے دعا کرنا، وہ دعا لے کر چلی گئیں۔
رات کو جب ہارون الرشیدسوئے تو انہوں نے خواب میں جنت کے مناظر دیکھے ، آبشاریں، مرغزاریں اور پھل پھول وغیرہ دیکھنے کے علاوہ بڑے اونچے اونچے خوبصورت محلات بھی دیکھے، ایک سرخ یاقوت کے بنے ہوئے محل پر انہوں نے زبیدہ کا نام لکھا ہوا دیکھا۔ ہارون الرشیدنے سوچا کہ میں دیکھوں تو سہی کیوں کہ یہ میری بیوی کا گھر ہے۔ وہ محل میں داخل ہونے کے لیئے جیسے ہی دروازے پر پہنچے تو ایک دربان نے انہیں روک لیا۔ ہارون الرشیدکہنے لگے ، اس پر تو میری بیوی کا نام لکھا ہوا ہے، اس لیئے مجھے اندرجانا ہے، دربان نے کہا نہیں، یہاں کا دستور الگ ہے، جس کا نام ہوتا ہے اسی کو اندر جانے کی اجازت ہوتی ہے، کسی اور کو اجازت نہیں ہوتی، لہذا آپ کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ جب دربان نے ہارون الرشید کو پیچھے ہٹایا تو ان کی آنکھ کھل گئی۔
بیدار ہونے پر فوراً خیال آیا کہ مجھے تو لگتا ہےکہ بہلول کی دعا زبیدہ کے حق میں اللہ رب العزت کے ہاں قبول ہوگئی۔ پھر انہیں خود پر افسوس ہوا کہ میں بھی اپنے لیئے ایک گھر خرید لیتا تو کتنا اچھا ہوتا، وہ ساری رات اسی افسوس میں کروٹیں بدلتے رہے، صبح ہوئی تو ان کے دل میں خیال آیا کہ آج پھر میں ضرور دیا کے کنارے جاوں گا۔ اگر آج مجھے بہلول مل گئے تو میں بھی ایک مکان ضرور خریدوں گا۔
چنانچہ وہ شام کو پھر اپنی بیوی کو لے کر چل پڑے، وہ بہلول کو تلاش کرتے ہوئے اِدھر اُدھر دیکھ رہے تھے کہ اچانک انہوں نے دیکھا کہ بہلول ایک جگہ بیٹھے اسی طرح مکان بنا رہے ہیں، ہارون الرشید نے اسلام وعلیکم کہا، بہلول نے جواب دیا وعلیکم سلام، ہارون الرشیدنے پوچھا، کیا کررہے ہیں؟ بہلول نے کہا، میں گھر بنا رہا ہوں۔ ہارون الرشیدنے پوچھا کس لیئے، بہلول نے کہا ، جو آدمی یہ گھر خریدے گا، میں اس کے حق میں دعا کروں گا کہ اللہ تعالیٰ اسے اس گھر بدلے جنت میں گھر عطاکرے۔
ہارون الرشیدنے پوچھا ، بہلول اس گھر کی قیمت بتائیں کیا ہے؟ بہلول نے کہا، اس کی قیمت پوری دنیا کی بادشاہی ہے۔ ہارون الرشیدنے کہا ، اتنی قیمت تو میں نہیں دے سکتا، کل تو آپ ایک دینار کے بدلے دے رہے تھے، اور آج پوری دنیا کی بادشاہت مانگ رہے ہیں؟ بہلول دانا نے کہا، بادشاہ سلامت! کل بن دیکھےمعاملہ تھا اور آج دیکھا ہوا معاملہ ہے، کل بن دیکھے کا سودا تھا اس لیئے سستا مل رہا تھا، اور آج چونکہ دیکھ کے آئے ہیں اس لیئے اب اس کی قیمت بھی زیادہ دینی پڑے گی۔

کنکریاں
ایک قافلہ ایک اندھیری گلی سے گزرا، ان کے پاؤں میں کنکریاں چُبھیں، کچھ لوگوں نے اس خیال سے کہ یہ کنکریاں کسی اور مسافر کو بھی گزرتے ہوئے چبھ سکتی ہیں نیکی کی خاطر اٹھا کر جیب میں ڈال لیں، کچھ نے زیادہ کچھ نے کم، 
جب اندھیرے سے باہر آکر دیکھا تو وہ ہیرے تھے، جنہوں نے کم اُٹھائے تھے وہ بھی پچھتائے اور جنھوں نے زیادہ اُٹھائے تھے وہ بھی پچھتائے۔
دُنیا کی زندگی کی مثال اسی اندھیرے کی سی ہے۔
نیکیاں کنکریوں کی طرح بکھری پڑی ہیں، جو اس زندگی میں اٹھا لیں وہ آخرت میں ہیرے جیسی قیمتی ہونگیں اور انسان ترسے گا کے زیادہ کیوں نہ اٹھائیں۔
____________________________________________________ 













7 Habits of Highly Effective People ever selling book by
(Stephen R. Covey)

دنیا کے انتہائی موثر ترین لوگوں کی نوٹ کی گئی سات عادات۔
Habit 1: Be Proactive

پہلی عادت۔وہ کسی بھی کام کے لیئے پہلے سے ذہنی طور پر تیاری کرلیتے ہیں۔
Habit 2: Begin with the End in Mind

دوسری عادت۔وہ کسی بھی کام کا آغاز کرنے سے پہلے اس کے انجام کو ذہن میں رکھتے ہیں
Habit 3: Put First Things First

تیسری عادت۔وہ کاموں میں درجہ بندی کرتے ہوئے جو کام پہلے کرنے والے ہوتے ہیں انہیں پہلے سرانجام دیتے ہیں۔
The Next Three are to do with Interdependence

اگلی تین عادات ایک دوسرے پر منحصر کرتی ہیں۔

Habit 4: Think Win/Win

چوتھی عادت۔ایک ایسا راستہ اپنا لینا کہ بغیر کسی نقصان کے کام بھی ہو جائے اور تصادم بھی نہ ہواور دونوں کا فائیدہ بھی ہو۔
Habit 5: Seek First to Understand, then to be Understood

پانچویں عادت۔سب سے پہلے سمجھا جائے پھرسمجھایا جائے۔
Habit 6: Synergize

چھٹی عادت۔مسائل کا حل تلاش کرنا اور ٹیم ورک کے ساتھ کام کرنا۔
The Last habit relates to self-rejuvenation;

آخری عادت  پچھلی چھ عادات کو دوبارہ دہرانے کا عمل ہے۔
Habit 7: Sharpening the Saw

ساتویں عادت۔ پچھلی چھ عادات کو دہراتے رہنااور ان کی مشق کرتے رہنا، کیونکہ مستقل مزاجی سے بڑے بڑے میدان جیت لیئے جاتے ہیں اور اسی میں یقینی کامیابی ہے۔