Keep Visiting for more
More, Under Research................. Currently.......
یہ معلومات آگاہیِ عام کیلئے شائع کی جارہی ہیں۔
GMI (Gold Mine International) website: www.goldmineint.com
گولڈ مائین کمپنی کے ممبرز کے مطابق یہ کمپنی ناروے سے تعلق رکھتی ہے، پاکستان میں لگ بھگ 3 سے 4 سال سے کام کررہی ہے۔ کمپنی سونے کی چیزوں میں بزنس کرتی ہے، اور گھڑی کے ذریعے بائنری سسٹم پر کام کررہی ہے۔ جس میں ممبر بننے کے بعد اپنے جیسے باقی افراد کو اس گھڑی کا شکار بنا کر ممبرز کو اپنے لفٹ اور رائٹ لیولز بیلنس کرنے ہوتے ہیں۔ جس میں رقوم نچلے لیول سے اوپر کی طرف آتی ہیں ، یہ کہنا سراسر غلط ہے کہ کمپنی کوئی رقم ادا کررہی ہے، کمپنی نہیں بلکہ اس کمپنی کا ڈاون لیول سسٹم ایسے ترتیب دیا گیا ہے کہ جو ممبرز کو ان کی ڈاون لائین سے پیسہ آتا ہوا اوپر(ناروے)چلا جاتا ہے۔
اس طرح یہ کمپنی کسی بھی ملک کے اربوں روپے چبا جاتی ہے اور وہاں کے باشندوں کو پتا بھی نہیں چلتا کہ وہ اس کمپنی کی بظاہر نمائندگی کرتے ہوئے اپنے ہی ملک کے ساتھ ہونے والے اکانمی خلا کو فروغ دے دیتے ہیں۔
اس طرح یہ کمپنی کسی بھی ملک کے اربوں روپے چبا جاتی ہے اور وہاں کے باشندوں کو پتا بھی نہیں چلتا کہ وہ اس کمپنی کی بظاہر نمائندگی کرتے ہوئے اپنے ہی ملک کے ساتھ ہونے والے اکانمی خلا کو فروغ دے دیتے ہیں۔
کمپنی کے افراد اپنے شکار کو پہلے ایک کال کرتے ہیں جس میں انھیں ایک بزنس میں اپنی کامیابی کا بتاتے ہیں اور پھر انھیں کہتے ہیں کہ آپ کو بھی کچھ بتانا ہے اور پھر کسی جگہ دوسرے دن ملنے کا کہتے ہیں۔ پھر کسی کمرے میں ایک صاحب کے حوالے کردیتے ہیں جو ایک ویڈیو چلا کر آنے والے شکاروں کی برین واشنگ کردیتے ہیں، اور اتنا پرجوش کردیتے ہیں کہ وہاں سے نکلنے والا شکار اپنے جیسے مذید شکاروں کو تاڑنے کی تیاری میں مصروف ہوجاتا ہے۔اور یہ زخمی افراد اپنے ڈسے جانے کا بدلہ اپنے ہی جیسے معصوم لوگوں کو قصائی کے ہاتھوں دے کر سبک دوش ہوجاتے ہیں۔
ہم دوستوں کو صرف پاکستان کے زوال کا حصہ بنانے سے بچانےکی مہم کا حصہ بناتے ہیں، ہمارے ایک دوست ہیں جنہوں نے عرصہ دو سال ہوئے جی ایم آئی کو جائین کیا تھا اور اس کمپنی کے لیئے بہت پرجوش اور سرگرم دکھائی دیئے، اس عرصہ دوسال میں ان کے ایک طرف 375 اور دوسری طرف 463 ممبرز بنے۔اور جس کی کل رقم تقریبا 3لاکھ اور 19 ہزار بنتی ہے، اور اس کے خلاف انھوں نے کمپنی کو جو رقم اوپر بھیجی لگ بھگ 50،00،000 پچاس لاکھ روپے بنتی ہے، اور انھیں اس بات کا احساس تک نہیں کہ ایک مزدور جو سعودیہ 2،00،000 دو لاکھ روپے دے کر جاتا ہے وہ بھی ان دوسالوں میں 7،20،000سات لاکھ بیس ہزار کما لیتا ہے، اور جو وہ رقم وطن پاکستان بھیجتا ہے، وہ کیسے ایک جست میں ملک سے بنا کسی کام کے چلی جاتی ہے۔ جس کا کوئی ریکارڈ بھی کسی جگہ یاکوئی کیس گورنمنٹ کے پاس موجود نہیں ہوتا ۔
450 ڈالر ایک دن میں کمانے کا سلوگن اسی کمپنی کا ہے، صرف اتنا سوچتے ہیں کہ 38250 تو 450ڈالر والے کو مل گئے مگر یہ دیکھتے ہیں کہ کمپنی 45 اور 45 مطلب 90 ممبر کی کی جائیننگز پر 497250 کہاں لے کر جائے گی؟؟؟ ناروے؟؟؟ چلیں یہ بھی دیکھ لیتے ہیں کہ سب اس نیٹ ورک میں سب کامیاب نہیں ہوتے اور نہ سب 450 ڈالر حاصل کرتے ہیں، جیسا کہ ہمارے دوست کی مثال سامنے ہے۔ ثبوت بھی دکھایا جاسکتا ہے، جو ہمارے پاس محفوظ ہے، اس کے باوجود مان لیتے ہیں کچھ دوستوں کو کچھ فائدہ بھی ہوجاتاہے۔ تو سوچیں اپنے تھوڑے سے فائیدے کے لیئے کتنا پیسہ باہر بھیج رہے ہیں۔ اور گھڑی کی جہاں تک بات ہے توگھڑی لینے کا انتخاب ہمارے اپنے ملک میں ہے، اس سے کہیں بہتر پراڈکٹس ہم اپنے ملک میں خرید کر اپنے ملک کے لوگوں کو فائیدہ دے سکتے ہیں۔ کسی ہول سیلر سے خود اس گھڑی کی قیمت پتہ کرلیں اگر 1000 سے 1200 روپے سے ذیادہ کی ہو تو پھر یہ گھڑی واقعی سونے کی ہے،آپ کام جاری رکھیں۔ اور پھر دیکھ لیتے ہیں کہ سسٹم رقم کی ادائیگی کر رہا ہے یا کمپنی؟؟؟ یاد رکھیں کہ کمپنی کچھ بھی ادا نہیں کررہی، کمپنی کا سسٹم پے کررہا ہے۔ جس میں پیسہ ہم تک آتا ہے اور وہ بھی صرف ڈاون لائین سے اور اوپر کمپنی تک چلا چاتا ہے۔ محض چند ممبرز میں تقسیم ہوکر ۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ 300000 تین لاکھ روپے باہر جاتے ہیں۔
کیا یہ اس ملکِ پاکستان کا معاشی نقصان نہیں ہے؟ جس کے اثرات ہماری آنے والی نسلیں بھگتیں گی؟ بہت سے ایسے افراد جو اس کمپنی کے ساتھ کام کرتے ہوئے اپنے مفادات کو مد نظر رکھتے ہیں جنھیں ملکی مفادات سے کوئی غرض نہیں ہوتی،وہ آپکو ورغلا بھی سکتے ہیں کہ جس کو اس کمپنی کا پتہ ہو اسی سے پوچھا کریں ۔ ان کے نزدیک ہونے والی گفتگو کوئی حساس طبیعیت کا انسان سن لے تو اسے معلوم ہو کہ سٹیج پہ آنے والی یہ شخصیات کونسا ذہنی معیار رکھتی ہیں، کہ کیسے نئے شکار اور اپنے دوستوں کو گھیرنے کی باتیں ہورہی ہوتی ہیں۔
اگر450 واقعی میں حاصل ہوتے ہیں۔ تو وہ ان کی عام زندگی میں نظر کیوں نہیں آتے۔ان ممبرز کی زندگیا ں اتنی کسمپرسی کا شکارکیوں ہوتی ہیں۔
کیا یہ اس ملکِ پاکستان کا معاشی نقصان نہیں ہے؟ جس کے اثرات ہماری آنے والی نسلیں بھگتیں گی؟ بہت سے ایسے افراد جو اس کمپنی کے ساتھ کام کرتے ہوئے اپنے مفادات کو مد نظر رکھتے ہیں جنھیں ملکی مفادات سے کوئی غرض نہیں ہوتی،وہ آپکو ورغلا بھی سکتے ہیں کہ جس کو اس کمپنی کا پتہ ہو اسی سے پوچھا کریں ۔ ان کے نزدیک ہونے والی گفتگو کوئی حساس طبیعیت کا انسان سن لے تو اسے معلوم ہو کہ سٹیج پہ آنے والی یہ شخصیات کونسا ذہنی معیار رکھتی ہیں، کہ کیسے نئے شکار اور اپنے دوستوں کو گھیرنے کی باتیں ہورہی ہوتی ہیں۔
اگر450 واقعی میں حاصل ہوتے ہیں۔ تو وہ ان کی عام زندگی میں نظر کیوں نہیں آتے۔ان ممبرز کی زندگیا ں اتنی کسمپرسی کا شکارکیوں ہوتی ہیں۔
ہماری تمام محب ِ وطن اور وطن پرستوں سے گزارش ہے کہ اس سکیم اور اس جیسی دیگر سکیموں کی بھرپور مذمت کریں تاکہ پاکستان مذید معاشی بحران کا شکار ہونے سے بچ سکے۔کیونکہ یہی پیسہ جب دوسرے ملکوں میں پہنچتا ہے تو وہ ملک تو مضبوط ہوتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں ڈالر کا ریٹ مذید بڑھ جاتا ہے ، نتیجہ کے طور پرپہلے سے موجود مہنگائی میں اور بھی اضافہ ہوتا ہے۔
یاد رکھیں کہ مہنگائی لانے میں صرف حکمران ہی قصور وار نہیں، بلکہ ہم لوگ خود بھی ہیں۔ کیونکہ فرمان ہے کہ "جیسے عوام ویسے حکمران"
یاد رکھیں کہ مہنگائی لانے میں صرف حکمران ہی قصور وار نہیں، بلکہ ہم لوگ خود بھی ہیں۔ کیونکہ فرمان ہے کہ "جیسے عوام ویسے حکمران"
پاکستان پائیندہ باد
